تصوف، دراصل انسان کے ظاہر و باطن کی اصلاح اور روحانی کمال کے حصول کا نام ہے۔ صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ انسان کی حقیقت صرف اس کے جسمِ خاکی (عالمِ خلق) تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اندر ایک روحانی وجود بھی ہے جو عالمِ امر سے تعلق رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: > "وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ، قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي" (سورۃ الإسراء: 85) یعنی “وہ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے۔” یہی "امرِ رب" انسان کے اندر مختلف روحانی مراکز کی صورت میں موجود ہے، جنہیں صوفیاء نے "لطائف" کہا ہے۔ ان لطائف کا تزکیہ اور بیداری روحانی ترقی کا بنیادی زینہ ہے۔ لطائف کی تعریف لفظ لطیفہ، "لُطف" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی نرمی اور باریکی کے ہیں۔ اصطلاحِ تصوف میں "لطائف" سے مراد وہ باطنی روحانی مراکز ہیں جن کے ذریعے انسان کا دل، روح، عقل، سرّ اور دیگر باطن کے پہلو نورِ الٰہی سے منور ہوتے ہیں۔ یہ لطائف، عالمِ خلق (مادّی دنیا) سے نہیں بلکہ عالمِ امر سے تعلق رکھتے ہیں۔ لطائف کی اقسام اگرچہ مختلف صوفی ...
My name is Aurangzaib. I belong to sheikh family . I am from D. G. Khan. I like Islam . I want our people should spend their lives according to Islam. I am interested to write those topics which are liked by every one. I want to create optimistic approach in the people of my country and people of world. I think the people should use bright side in every matter. May Allah help us in every field of life!