Skip to main content

Posts

تصوف

  تصوف، دراصل انسان کے ظاہر و باطن کی اصلاح اور روحانی کمال کے حصول کا نام ہے۔ صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ انسان کی حقیقت صرف اس کے جسمِ خاکی (عالمِ خلق) تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اندر ایک روحانی وجود بھی ہے جو عالمِ امر سے تعلق رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: > "وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ، قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي" (سورۃ الإسراء: 85) یعنی “وہ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے۔” یہی "امرِ رب" انسان کے اندر مختلف روحانی مراکز کی صورت میں موجود ہے، جنہیں صوفیاء نے "لطائف" کہا ہے۔ ان لطائف کا تزکیہ اور بیداری روحانی ترقی کا بنیادی زینہ ہے۔ لطائف کی تعریف لفظ لطیفہ، "لُطف" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی نرمی اور باریکی کے ہیں۔ اصطلاحِ تصوف میں "لطائف" سے مراد وہ باطنی روحانی مراکز ہیں جن کے ذریعے انسان کا دل، روح، عقل، سرّ اور دیگر باطن کے پہلو نورِ الٰہی سے منور ہوتے ہیں۔ یہ لطائف، عالمِ خلق (مادّی دنیا) سے نہیں بلکہ عالمِ امر سے تعلق رکھتے ہیں۔ لطائف کی اقسام اگرچہ مختلف صوفی ...

فلسفہ اور تعلیم

  تعلیم محض کتابی علم کا نام نہیں بلکہ یہ ایک پورا فکری نظام ہے، جس کے پیچھے مختلف فلسفے کارفرما ہیں۔ ہر فلسفہ یہ بتاتا ہے کہ بچوں کو کس طرح پڑھایا جائے، کیا سکھایا جائے اور تعلیم کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے۔ ذیل میں ان بڑے بڑے تعلیمی فلسفوں کو دلچسپ اور تفصیلی انداز میں بیان کیا گیا ہے: ایسینشیلزم (Essentialism) 📚 اس فلسفے کے مطابق تعلیم کا پہلا مقصد یہ ہے کہ بچوں کو وہ بنیادی مہارتیں سکھائی جائیں جن کے بغیر زندگی کا تصور ہی ناممکن ہے، جیسے پڑھنا، لکھنا اور حساب۔ یہاں استاد کی مرکزی حیثیت ہے اور وہی کلاس روم میں علم کا اصل ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ طلبہ کو ڈسپلن کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے تاکہ وہ ایک مضبوط بنیاد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ اس سوچ کے مطابق اگر بچے بنیادی مہارتوں پر عبور حاصل کر لیں تو باقی سب کچھ آسان ہو جاتا ہے۔ پرینیئلزم (Perennialism) 🏛️ یہ فلسفہ وقت کے امتحان سے گزری ہوئی دانش پر زور دیتا ہے۔ اس میں تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ کلاسیکی ادب، فلسفہ اور آفاقی سچائیوں سے واقف ہوں۔ یہاں بات صرف معلومات حاصل کرنے کی نہیں بلکہ ذہن کو سوچنے، غور کرنے اور گہرائی میں اترنے کی تربیت دی ...

پاکستان کے دریا۔۔۔

  دریا ناراض کیوں ہیں ؟  ۱۔۔۔۔۔ دریائے سندھ  ۲۔۔۔۔۔دریائے جہلم  ۳۔۔۔۔دریاے چناب  ۴۔۔۔۔دریائے  راوی ۵۔۔۔۔دریائے ستلج   ۶۔۔۔۔دریائے بیاس   ۔۔۔۔۔۔۔ پہلی بات تو یہ ہے ایک وقت تھا پنجاب میں  یہ چھ دریا تھے ۔  اِن کے اپنے اپنے روٹ تھے۔ اِن کی اپنی اپنی چراگاہیں اور اپنے اپنے جنگل تھے ۔ بڑے بڑے ظرف رکھتے ۔ ہزاروں میل تک پنجاب کی زمین کو سیراب کرتے ہوئے اپنا پانی تقسیم کر کے ہلکی رَو میں سندھ میں جا ملتے  اور یوں دھرتی کا  سبز وسُرخ حُسن  جوبن پر رہتا ۔ لوگ سُکھی بستے تھے ۔  جب برسات کے موسم آتے ۔ چھ کے چھ دریا اپنا پانی اپنے اپنے ظرف میں سمیٹ کر نکل جاتے  ۔  اگر پانی ظرف سے چھلکتا تو دائیں بائیں دو تین کلومیٹر کی چراگاہیں اُس پانی کو اپنی گود میں لے لیتی تھیں ۔  یہ چراگاہیں عوام کی سانجھی ملکیت ہوتی تھیں ۔ فطرت کی پرورش کرتی تھیں ، پرندے اور جانور پالتی تھیں ، شکار گاہیں اور جنگل آباد ہوتے تھے   پھر کیا ہوا کہ اہلِ اقتدار نے دریائے بیاس کو ختم کر کے اُس کا آدھا پانی ستلج میں ڈال دیا...

پاکستان کا سیلاب اور تدبر

  2022 میں اسی موسم میں بڑا شدید سیلاب آیا تھا  تو میں نے ایک آبی ماہر کے الفاظ آپ کے حوالے کیے تھے ۔آج کچھ قوم پرست اور اُن کے چیلے سوشل میڈیا پر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ڈیم بنانے سے سیلاب نہیں رُکیں گے ۔ارے بابا کیوں نہیں رُکیں گے ۔سیدھی سی بات ھے ڈیموں کا ایک انفرا سٹریکچر ہو نا چاہیے جس میں سے پانی لیک کر کے یا بہا کر گنجائش پیدا کی جاتی ھے تاکہ نیا آنے والا پانی کھپایا جا سکے ۔ خیر وہی 2022 والی  تحریر آپکے پیش  خدمت ھے )) گارڈنگ گروپ کے دوستو آپکی خدمت عالیہ میں چند حقائق رکھنا چاہوں گا ۔یہ حقائق ماخوذ ہیں دنیا کے ایک بہت بڑے آبی ماہر اور واٹر انجینیر کی گفتگو سے ۔ جی ہاں یہ آبی ماہر جناب شمس الملک ہیں جو ہمارے واپڈا کے چہرمین بھی رہے۔ یہ دنیا یا اس کائینات کے سب سے بڑے آبی ماہرین میں سے ایک ہیں تعلق کے پی کے سے ھے اور ایک پٹھان ہیں۔پاکستان کے حوالے سے اُن کا کہنا ھےکہ 1:: پاکستان ایک نچلی سطح زمین والی ریاست ھے  یعنی زیریں ریاست ھے جبکہ اس کے اطراف کی ساری ریاستیں بالائی ہیں اونچی سطح زمین والی ہیں ۔اس لیے پاکستان میں بارش چاہے کم ہو لیکن بالائی ریاستوں میں...

ہم بوڑھے لوگ

  *محترم ریٹائرڈ حضرات*😇  ہم ایک شاندار عمر میں ہیں، ہم خوبصورت بھی نظر آتے ہیں، ہمارے پاس تقریباً وہ سب کچھ ہے جو ہم بچپن میں چاہتے تھے:  ہم اسکول نہیں جاتے اور نہ ھی کام کرتے ہیں، ہمارے پاس ماہانہ پنشن ھے۔   ہم میں سے کچھ کے پاس اب بھی ڈرائیونگ لائسنس اور یہاں تک کہ اپنی کار بھی ھے۔   *تو زندگی خوبصورت ھے نا!*   اس کے علاوہ، ہم ناقابل یقین حد تک ہوشیار ہیں، ہمارا دماغ تھوڑا سست ہے کیونکہ یہ علم سے بھرا ہوا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو سست ہو جاتی ہے کیونکہ یہ فائلوں سے بھری ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہم میں سے کچھ ایک کمرے میں جاتے ہیں تو یاد نہیں رہتا کہ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں، یا ہمیں یاد نہیں ہے کہ ہم نے کچھ کہاں رکھا ہے۔   *یہ یادداشت کا مسئلہ نہیں ہے!* قدرت ہمیں کم از کم تھوڑی دیر حرکت کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ایسا کرتی ہے۔  *60 سال سے زیادہ عمر کے ہر فرد کے لیے:*  *ضروری خوراک:*  1. سبزیاں اور پھل۔  2. سمندری غذا، خاص طور پر سالمن مچھلی۔  3. گری دار میوے  4. انڈے اور چکن  5. ایکسٹرا ور...

سیلاب اور ڈیم۔۔۔۔۔۔

  سیلابوں کی روک تھام کا سب سے مناسب اور سائنسی حل پانی کو اس کے فطری راستوں پر بہنے دینا اور بہاؤ کو کسی صورت نہ روکنا ہے۔ ڈیمز بنانے سے یہ بہاؤ رکتا ہے اور یوں چھوٹے سیلابوں سے تو آپ بچ جاتے ہیں مگر بڑے سیلابوں کا راستہ خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ڈیم پانی کی اسٹوریج کا ذریعہ نہیں کیوں کہ پانی کا بہترین ذخیرہ زمین کے اندر ہوتا ہے۔ ڈیمز بجلی کے حصول کا ذریعہ بھی نہیں کیوں کہ اس وقت اس سے کہیں سستی بجلی پون چکیوں اور سولر سسٹم سے حاصل ہو سکتی ہے۔ خدارا انفراسکرکچر کے منصوبوں کو ماحول کے مطابق بنائیں ورنہ یہ ڈیمز مستقبل میں نہ صرف خود تباہ ہو کر آپ کی بھاری سرمایہ کاری بہا لے جائیں گے بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ جائیں گی۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کا سب سے اہم انسداد انسانی زندگی کو قدرتی ماحول سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

دماغ اک نعمت

  انسان کا دماغ ایک "بینک" کی مانند ہے۔ جو کچھ آپ اس میں جمع کرتے ہیں، وہی وقت آنے پر آپ کو واپس ملتا ہے۔ اگر آپ منفی سوچیں، شکایات، حسد اور غصہ اس میں جمع کریں گے تو یہ سب آپ کی شخصیت کا حصہ بن کر آپ کی زندگی کو تلخ کر دے گا۔ لیکن اگر آپ مثبت خیالات، علم، تجربات اور اچھے جذبے اس میں محفوظ کریں گے تو یہی سرمایہ ایک دن آپ کو کامیابی، سکون اور وقار کی صورت میں واپس ملے گا۔ لہذا اپنے دماغ کو زرخیز بنائیں  اپ دماغ کو جو سمت دیں گے اپ اپنی شخصیت میں محسوس کریں گے   دماغ  ایک بینک کی طرح، اپکی ادائیگی اپکے اثاثے جو بھی ہوگا دماغ بھی وہی لوٹاتا ہے جو آپ اس میں جمع کرتے ہیں۔ اس لیے دانشمند وہ ہے جو اپنے ذہن کے "خزانے" میں صرف وہی جمع کرتا ہے جو اس کے کل کو بہتر بنا سکے۔ یاد رکھیں! دماغ کا سب سے قیمتی سرمایہ "علم اور مثبت سوچ" ہے۔ اسی میں وہ طاقت ہے جو تقدیر کے دروازے کھول دیتی ہے۔