Skip to main content

فلسفہ اور تعلیم

 


تعلیم محض کتابی علم کا نام نہیں بلکہ یہ ایک پورا فکری نظام ہے، جس کے پیچھے مختلف فلسفے کارفرما ہیں۔ ہر فلسفہ یہ بتاتا ہے کہ بچوں کو کس طرح پڑھایا جائے، کیا سکھایا جائے اور تعلیم کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے۔ ذیل میں ان بڑے بڑے تعلیمی فلسفوں کو دلچسپ اور تفصیلی انداز میں بیان کیا گیا ہے:


ایسینشیلزم (Essentialism) 📚

اس فلسفے کے مطابق تعلیم کا پہلا مقصد یہ ہے کہ بچوں کو وہ بنیادی مہارتیں سکھائی جائیں جن کے بغیر زندگی کا تصور ہی ناممکن ہے، جیسے پڑھنا، لکھنا اور حساب۔ یہاں استاد کی مرکزی حیثیت ہے اور وہی کلاس روم میں علم کا اصل ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ طلبہ کو ڈسپلن کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے تاکہ وہ ایک مضبوط بنیاد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ اس سوچ کے مطابق اگر بچے بنیادی مہارتوں پر عبور حاصل کر لیں تو باقی سب کچھ آسان ہو جاتا ہے۔


پرینیئلزم (Perennialism) 🏛️

یہ فلسفہ وقت کے امتحان سے گزری ہوئی دانش پر زور دیتا ہے۔ اس میں تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ کلاسیکی ادب، فلسفہ اور آفاقی سچائیوں سے واقف ہوں۔ یہاں بات صرف معلومات حاصل کرنے کی نہیں بلکہ ذہن کو سوچنے، غور کرنے اور گہرائی میں اترنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر یونانی فلسفیوں کے افکار یا بڑے ادیبوں کی کتابیں طلبہ کو ایسی سچائیوں سے روشناس کراتی ہیں جو ہمیشہ قائم رہتی ہیں۔


پروگریسو ازم (Progressivism) 🧭

یہ فلسفہ تعلیم کو ایک جیتی جاگتی سرگرمی سمجھتا ہے۔ اس کے مطابق بچے محض کتابوں سے نہیں بلکہ عملی تجربات، سوال جواب، گروپ ورک اور مسائل حل کرنے کے عمل سے سیکھتے ہیں۔ استاد یہاں ایک رہنما کا کردار ادا کرتا ہے جو طلبہ کو دریافت کے سفر پر لے کر جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ بچے صرف رٹے لگانے کے بجائے حقیقت کو سمجھیں اور تنقیدی سوچ پیدا کریں۔


ریکانسٹرکشن ازم (Reconstructionism) 🌍

یہ فلسفہ تعلیم کو سماجی تبدیلی کا ایک ہتھیار مانتا ہے۔ اس کے مطابق طلبہ کو نہ صرف موجودہ مسائل جیسے غربت، ماحولیاتی بحران، یا ناانصافی کے بارے میں آگاہی دی جائے بلکہ ان میں یہ جذبہ بھی پیدا کیا جائے کہ وہ دنیا کو بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔ یوں تعلیم محض فرد کی بہتری تک محدود نہیں رہتی بلکہ معاشرے کی اصلاح اور ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔


ایگزیسٹینشلزم (Existentialism) 🚶

یہ فلسفہ فرد کی آزادی اور ذاتی انتخاب پر زور دیتا ہے۔ اس کے مطابق ہر بچہ اپنی شخصیت میں منفرد ہے اور اسے یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کا مقصد خود تلاش کرے۔ اس طرح تعلیم بچے کو اپنی آواز تلاش کرنے، اپنی دلچسپیوں کو سمجھنے اور اپنی راہ متعین کرنے کا موقع دیتی ہے۔ یہاں استاد ایک ایسے دوست کی طرح ہوتا ہے جو طلبہ کو اپنے اندر جھانکنے اور اپنی پہچان بنانے میں مدد دیتا ہے۔


کنسٹرکٹیوزم (Constructivism) 🏗️

یہ فلسفہ کہتا ہے کہ سیکھنا کوئی تیار شدہ چیز نہیں بلکہ یہ ایک "تعمیر" ہے۔ طلبہ اپنے تجربات، سوالات اور غوروفکر سے علم کی عمارت خود کھڑی کرتے ہیں۔ کلاس روم میں مباحثے، پراجیکٹس اور گروپ سرگرمیوں کے ذریعے وہ اپنے خیالات کو مضبوط کرتے ہیں۔ اس فلسفے میں بچے زیادہ فعال ہوتے ہیں اور استاد ایک سہولت کار (Facilitator) کی طرح ان کی رہنمائی کرتا ہے۔


بیہیویئر ازم (Behaviorism) 🧠

اس فلسفے میں تعلیم کو رویے بدلنے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے مطابق اگر ہم بچوں کو مثبت رویے اپنانے پر انعام دیں، تعریف کریں اور ایک منظم ماحول فراہم کریں تو وہ اچھی عادات اپنا لیتے ہیں۔ یہاں زیادہ زور نظم و ضبط، عادات اور ماحول پر ہے۔ مثال کے طور پر کلاس روم میں کام مکمل کرنے پر شاباش دینا یا انعام دینا بیہیویئر ازم کا عملی اظہار ہے۔


---


یوں دیکھا جائے تو تعلیم کے یہ تمام فلسفے دراصل مختلف زاویوں سے ایک ہی سوال کا جواب دیتے ہیں: ہم بچے کو کس طرح ایک بہتر انسان اور ایک کامیاب شہری بنا سکتے ہیں؟ بعض فلسفے بنیادی علم پر زور دیتے ہیں، کچھ سماجی اصلاح کو اہم سمجھتے ہیں، کچھ ذاتی آزادی کو، اور کچھ سیکھنے کے عمل کو ایک تعمیراتی سفر قرار دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک بہترین تعلیمی نظام ان سب فلسفوں کے امتزاج سے تشکیل پاتا ہے۔

 

Comments

Popular posts from this blog

The History of Calander.

  بارہ مہینوں کے نام کیسے پڑے؟ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کاموقع دینے والی دلچسپ داستان سال کے365 دن 12؍ مہینے رکھتے ہیں۔ ان میں کوئی30، کوئی31 اور کوئی28 یا29 دن کا ہوتا ہے۔  ان مہینوں کے نام کس طرح رکھے گئے، یہ داستان دلچسپ پس منظر رکھتی ہے۔                                  جنوری عیسوی سال کے پہلے مہینے کا نام، رومیوں کے ایک دیوتا جانس (Janus) کے نام پر رکھا گیا۔  جانس دیوتا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی پوجا صرف جنگ کے دنوں میں کی جاتی تھی ,امن میں نہیں۔ دیوتا کے دو سر تھے، جن سے وہ بیک وقت آگے پیچھے دیکھ سکتا تھا۔اس مہینے کا نام جانس یوں رکھا گیاکہ جس طرح دیوتا اپنے دو سروں کی وجہ سے آگے پیچھے دیکھ سکتا ہے، اسی طرح انسان بھی جنوری میں اپنے ماضی و حال کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنوری کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ جنوا (Janua) سے اخذ کیاگیا جس کا مطلب ہے ’’دروازہ‘‘۔ یوں جنوری کا مطلب ہوا ’’سال کا دروازہ‘‘۔ماہ جنوری31؍ دِنوں پر مشتمل ہے۔           ...

The history of December Holidays

  The December holidays in the Indian subcontinent originated during the period of British rule (the British Raj). Origin of Public Holiday: As the ruling power was Christian, Christmas Day (December 25th) was established as a major public and government holiday throughout British India. Early Celebrations: Records from colonial-era cities like Calcutta (Kolkata) show elaborate and extensive Christmas celebrations by the European community beginning as early as the mid-18th century and becoming more widespread and lavish by the 19th century. Banks and government offices would typically close Winter School Vacations The Fortnight Break: The British-style education system introduced a fortnight-long (two-week) break around the Christmas and New Year period. This was a direct import of the academic calendar from the United Kingdom. This practice was well-established by the early to mid-19th century. Climatic Necessity: For many colder, high-altitude regions (especially in the north), ...

Hazrat Ali

  مولا علی علیہ السلام کون؟؟؟؟ ایک عظیم تعارف مودت سے لبریز ایک خوبصورت تحریر وہ علی :جو عین اسلام ہیں وہ علی :جو کل ایمان ہیں وہ علی: جو خانہ کعبہ میں پیدا ہوا اور مسجد کوفہ میں شہید کیا گیا۔ وہ علی :جس نے آنکھ کھولی تو سب سے پہلے مصحف روئے نبی کی زیارت کی اور جو نور میں ،خلق میں ،تبلیغ میں،راحت میں ،کلفت میں،بزم میں،رزم میں غرض ہر منزل میں رسول خدا کا ہم رکاب ہیں ۔ وہ علی: جو خاتم الرسل کا بھائی اور وصی ہیں وہ علی : جوفاطمہ الزہرا کا شوہر تھا۔ وہ علی :جو سرداران جنت حسنین علیہما السلام کا باپ تھا۔ وہ علی :جو نہ صرف مومن آل محمد تھا بلکہ خدا کے آخری نبی خاتم الرسل کا شاہد و گواہ بھی تھا۔ وہ علی: جو ایسا عبادت گزارتھا کہ حالت نماز میں پاوں سے تیر نکال لیا گیا اوراسے احساس تک نہیں ہوا۔ وہ علی :جس کی زندگی انتہائی سادہ اورپاکیزہ تھی۔ وہ علی: جس نے تمام عمر محنت و مزدوری کی اورع جو کی خشک روٹی کھا تا رہا۔ وہ علی: جو علوم کائنات کا حامل تھا اور جسے زبان وحی سے مدینۃ العلم کا لقب عطا ہوا۔ وہ علی: جس نے مسجد کوفہ کی منبر سے سلونی سلونی قبل ان تفقدونی کا علان کیا۔ وہ علی: جس کے عدل کی ...