Skip to main content

شاہ لطیف بھٹائی اور عورت کا مقام

 


✏️انتخاب✏️

اس نے پوچھا’’شاہ لطیف کون تھا؟‘‘

میں نے کہا ’’دنیا کا پہلا فیمینسٹ شاعر‘‘

اس نے پوچھا ’’کس طرح۔۔۔!؟‘‘

میں نے کہا ’’اس طرح کہ :

وہ جانتا تھا کہ عورت کیا چاہتی ہے؟

اس سوال کا جواب ارسطو بھی نہ دے پایا

اس لیے علامہ اقبال نے کہا تھا:

’’ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا

پھر بھی یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں‘‘

دنیا کے سارے دانشور اور شاعر کہتے رہے کہ

’’عورت ایک مسئلہ ہے‘‘

اس حقیقت کا ادراک صرف لطیف کو تھا کہ

’’عورت مسئلہ نہیں

عورت محبت ہے!‘‘

مگر وہ محبت نہیں

جو مرد کرتا ہے!

مرد کے لیے محبت جسم ہے

عورت کے لیے محبت جذبہ ہے

مرد کی محبت جسم کا جال ہے

عورت کی محبت روح کی آزادی ہے

مرد کی محبت مقابلہ ہے

عورت کی محبت عاجزی ہے

مرد کی محبت ایک پل ہے

عورت کی محبت پوری زندگی ہے

مرد کی محبت ایک افسانہ ہے

عورت کی محبت ایک حقیقت ہے!

سارے شعراء شیکسپئر سے لیکر شیلے تک

اور ہومر سے لیکر ہم تم تک

سب یہ سمجھتے رہے کہ عورت معشوق ہے

صرف شاہ کو معلوم تھا کہ عورت عاشق ہے

اس لیے شاہ لطیف نے لکھا:

’’عورت عشق کی استاد ہے‘‘

سب سوچتے رہے کہ

’’آخر عورت کیا چاہتی ہے؟

تخت؛ بخت اور جسم سخت!؟‘‘

شاہ عبدالطیف کو علم تھا کہ

’’عورت کو محبت چاہیے

نرم و نازک گرم و گداز

جسم سے ماورا

جنس سے آزاد‘‘

مرد جسم  کے جنگل میں 

بھٹکتا ہوا ایک بھوکا درندہ ہے

عورت روح کے چمن میں 

اڑتی ہوئی تتلی ہے

جو پیار کی پیاسی ہے

مرد کے لیے محبت بھوک

اور عورت کے لیے پیار

ایک پیاس ہے!

صرف لطیف جانتا تھا

عورت کے ہونٹ ساحل ہیں

اور اس کا وجود ایک سمندر ہے

آنکھوں سے بہتے ہوئے 

اشکوں جیسا سمندر

جو نمکین بھی ہے

اور

حسین بھی ہے!!

جس میں تلاطم ہے

جس میں غم ہے

جس میں رنج نہیں

صرف اور صرف الم ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

The History of Calander.

  بارہ مہینوں کے نام کیسے پڑے؟ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کاموقع دینے والی دلچسپ داستان سال کے365 دن 12؍ مہینے رکھتے ہیں۔ ان میں کوئی30، کوئی31 اور کوئی28 یا29 دن کا ہوتا ہے۔  ان مہینوں کے نام کس طرح رکھے گئے، یہ داستان دلچسپ پس منظر رکھتی ہے۔                                  جنوری عیسوی سال کے پہلے مہینے کا نام، رومیوں کے ایک دیوتا جانس (Janus) کے نام پر رکھا گیا۔  جانس دیوتا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی پوجا صرف جنگ کے دنوں میں کی جاتی تھی ,امن میں نہیں۔ دیوتا کے دو سر تھے، جن سے وہ بیک وقت آگے پیچھے دیکھ سکتا تھا۔اس مہینے کا نام جانس یوں رکھا گیاکہ جس طرح دیوتا اپنے دو سروں کی وجہ سے آگے پیچھے دیکھ سکتا ہے، اسی طرح انسان بھی جنوری میں اپنے ماضی و حال کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنوری کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ جنوا (Janua) سے اخذ کیاگیا جس کا مطلب ہے ’’دروازہ‘‘۔ یوں جنوری کا مطلب ہوا ’’سال کا دروازہ‘‘۔ماہ جنوری31؍ دِنوں پر مشتمل ہے۔           ...

The history of December Holidays

  The December holidays in the Indian subcontinent originated during the period of British rule (the British Raj). Origin of Public Holiday: As the ruling power was Christian, Christmas Day (December 25th) was established as a major public and government holiday throughout British India. Early Celebrations: Records from colonial-era cities like Calcutta (Kolkata) show elaborate and extensive Christmas celebrations by the European community beginning as early as the mid-18th century and becoming more widespread and lavish by the 19th century. Banks and government offices would typically close Winter School Vacations The Fortnight Break: The British-style education system introduced a fortnight-long (two-week) break around the Christmas and New Year period. This was a direct import of the academic calendar from the United Kingdom. This practice was well-established by the early to mid-19th century. Climatic Necessity: For many colder, high-altitude regions (especially in the north), ...

سورہ الطارق

 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* 85:21 *بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ*  لفظی ترجمہ:  *بَلْ هُوَ:* بلکہ وہ | *قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ:* قرآن مجید ہے ترجمہ: 85:21 (ان کے جھٹلانے سے قرآن پر کوئی اثر نہیں پڑتا) بلکہ یہ بڑی عظمت والا قرآن ہے۔ Nay, this is a Glorious Qur'an, 85:22 *فِىۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ*  لفظی ترجمہ:  *فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ:* لوح محفوظ میں ترجمہ: 85:22 جو لوح محفوظ میں درج ہے۔ (Inscribed) in a Tablet Preserved!  85. Al- Burooj 21-22 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* *وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِۙ*  لفظی ترجمہ:  *وَالسَّمَآءِ:* قسم ہے آسمان کی | *وَالطَّارِقِ:* اور رات کو آنے والے کی ترجمہ: 86:01 قسم ہے آسمان کی اور رات کو آنے والے کی۔ By the Sky and the Night-Visitant (therein);- 86:02 *وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الطَّارِقُۙ‏* لفظی ترجمہ: *وَمَآ اَدۡرٰٮكَ:* اور کیا چیز بتائے تجھ کو | *مَا الطَّارِقُ:* وہ رات کو آنے والا کیا ہے ترجمہ: 86:02 اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ رات کو آنے والا کیا ہے ؟ And what will explain to thee what the N...