بہت سی بیماریاں دراصل بیماریاں نہیں بلکہ بڑھاپے کی قدرتی علامتیں ہیں۔ بیجنگ کے ایک اسپتال کے ڈائریکٹر نے بزرگوں کے لیے پانچ قیمتی مشورے دیے ہیں: *"آپ بیمار نہیں ہیں، آپ صرف بوڑھے ہو رہے ہیں۔"* بہت سی چیزیں جنہیں آپ بیماری سمجھتے ہیں، دراصل جسم کے بڑھاپے کی علامتیں ہیں۔ 1. یادداشت کی کمزوری یہ الزائمر نہیں بلکہ دماغ کا خود حفاظتی نظام ہے۔ خود کو خوفزدہ نہ کریں۔ یہ دماغ کے بڑھنے کی علامت ہے، بیماری نہیں۔ اگر آپ صرف چابی یا چیزیں کہاں رکھی ہیں بھول جاتے ہیں مگر بعد میں ڈھونڈ لیتے ہیں، تو یہ ڈیمنشیا نہیں۔ 2. چلنے میں سستی یا لڑکھڑاہٹ یہ فالج نہیں بلکہ پٹھوں کی کمزوری (Degeneration) ہے۔ علاج دوائی نہیں بلکہ حرکت ہے۔ جتنا ہو سکے چلیئے، متحرک رہیئے۔ 3. نیند نہ آنا (انسومنیا) یہ بیماری نہیں بلکہ دماغ کا اپنی رفتار بدلنا ہے۔ عمر کے ساتھ نیند کے اوقات بدل جاتے ہیں۔ نیند کی گولیاں بار بار استعمال کرنا خطرناک ہے، اس سے گریزکیجیئے، اس سے یادداشت کمزور ہونے اور دماغی نقصان کا خطرہ بڑھتا ہے۔ بزرگوں کے لیے بہترین نیند کی دوا سورج کی روشنی ہے — دن میں دھوپ لیں اور مقررہ وقت پر سونے جاگنے کی...
16 دسمبر 1971 پاکستان کی تاریخ کا سب سے دردناک دن مانا جاتا ہے۔ اس دن مشرقی پاکستان میں پاک بھارت جنگ کا اختتام ہوا اور ڈھاکہ میں پاکستانی فوج نے بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کے ساتھ ہی مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ اصل کہانی اس سے کئی سال پہلے شروع ہوتی ہے۔ 1947 میں پاکستان دو حصوں پر مشتمل تھا: مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان، جن کے درمیان تقریباً ہزار میل کا فاصلہ اور بھارت حائل تھا۔ آبادی کے لحاظ سے مشرقی پاکستان زیادہ بڑا تھا، لیکن اقتدار، فوج، معیشت اور فیصلوں میں اسے برابر کا حق نہیں دیا گیا۔ زبان کا مسئلہ بھی بڑا سبب بنا، جب اردو کو واحد قومی زبان قرار دیا گیا اور بنگالی زبان کو نظر انداز کیا گیا، جس سے وہاں شدید ردعمل پیدا ہوا۔ 1970 کے عام انتخابات میں شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ نے واضح اکثریت حاصل کی، لیکن اقتدار منتقل نہ کیا گیا۔ اس سیاسی بحران نے حالات کو مزید خراب کر دیا۔ احتجاج شروع ہوئے، بداعتمادی بڑھی اور پھر فوجی آپریشن ہوا، جس سے مشرقی پاکستان میں غصہ اور علیحدگی کی تحریک مضبوط ہو گئی۔ بھارت نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا، مکتی باہنی...