Skip to main content

بڑھاپے کی علامت

 



بہت سی بیماریاں دراصل بیماریاں نہیں بلکہ بڑھاپے کی قدرتی علامتیں ہیں۔
بیجنگ کے ایک اسپتال کے ڈائریکٹر نے بزرگوں کے لیے پانچ قیمتی مشورے دیے ہیں:

*"آپ بیمار نہیں ہیں، آپ صرف بوڑھے ہو رہے ہیں۔"*
بہت سی چیزیں جنہیں آپ بیماری سمجھتے ہیں، دراصل جسم کے بڑھاپے کی علامتیں ہیں۔

1. یادداشت کی کمزوری
یہ الزائمر نہیں بلکہ دماغ کا خود حفاظتی نظام ہے۔
خود کو خوفزدہ نہ کریں۔ یہ دماغ کے بڑھنے کی علامت ہے، بیماری نہیں۔
اگر آپ صرف چابی یا چیزیں کہاں رکھی ہیں بھول جاتے ہیں مگر بعد میں ڈھونڈ لیتے ہیں، تو یہ ڈیمنشیا نہیں۔

2. چلنے میں سستی یا لڑکھڑاہٹ
یہ فالج نہیں بلکہ پٹھوں کی کمزوری (Degeneration) ہے۔
علاج دوائی نہیں بلکہ حرکت ہے۔ جتنا ہو سکے چلیئے، متحرک رہیئے۔

3. نیند نہ آنا (انسومنیا)
یہ بیماری نہیں بلکہ دماغ کا اپنی رفتار بدلنا ہے۔
عمر کے ساتھ نیند کے اوقات بدل جاتے ہیں۔
نیند کی گولیاں بار بار استعمال کرنا خطرناک ہے، اس سے گریزکیجیئے، اس سے یادداشت کمزور ہونے اور دماغی نقصان کا خطرہ بڑھتا ہے۔
بزرگوں کے لیے بہترین نیند کی دوا سورج کی روشنی ہے — دن میں دھوپ لیں اور مقررہ وقت پر سونے جاگنے کی عادت بنائیں۔

4. جسم میں درد
یہ گٹھیا یا روماتزم نہیں بلکہ اعصاب کے بڑھاپے کی علامت ہے۔
یہ جسم کا نارمل ردِ عمل ہے۔

5. بازو، ٹانگوں یا جوڑوں کا درد
اکثر بزرگ کہتے ہیں کہ پورا جسم دکھتا ہے — یہ عموماً ہڈیوں کی کمزوری نہیں بلکہ اعصاب کی رفتار سست ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
دماغ درد کے سگنلز زیادہ محسوس کرتا ہے — اسے Central Sensitization کہا جاتا ہے۔
اس کا علاج درد کی گولیاں نہیں بلکہ ورزش، گرم پانی سے پاؤں دھونا، گرم کپڑا پہننا اور ہلکی مالش ہے۔
یہ علاج دوا سے زیادہ مؤثر ہے۔

6. میڈیکل رپورٹس کی بے ترتیبی
اکثر جسمانی معائنے کی رپورٹس بیماری نہیں بلکہ پرانے معیاروں پر بنے ہوئے نتائج دکھاتی ہیں۔

7. ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق
بزرگوں کے لیے طبی معیار نرم ہونے چاہئیں۔
مثلاً تھوڑا سا زیادہ کولیسٹرول نقصان دہ نہیں، بلکہ لمبی عمر کی علامت ہے —
کیونکہ کولیسٹرول ہارمونز اور سیلز کے لیے ضروری جزو ہے۔
بلڈ پریشر بھی بزرگوں کے لیے 150/90 mmHg سے کم ہونا کافی ہے، 140/90 نہیں۔
لہٰذا بڑھاپے کو بیماری نہ سمجھیں اور جسمانی تبدیلی کو نقصان نہ جانیں۔

8. بڑھاپا بیماری نہیں بلکہ زندگی کا قدرتی سفر ہے۔
بزرگوں اور ان کے بچوں کے لیے چند نصیحتیں:
● یاد رکھیں: ہر تکلیف بیماری نہیں ہوتی۔
● بزرگوں کو خوفزدہ نہ کریں۔ رپورٹس یا اشتہارات سے ڈرائیں نہیں۔

● اولاد کا سب سے بڑا فرض صرف والدین کو اسپتال لے جانا نہیں، بلکہ ان کے ساتھ چلنا، بات کرنا، دھوپ میں بیٹھنا، کھانا کھانا اور وقت گزارنا ہے۔

بڑھاپا دشمن نہیں، بلکہ "زندگی" کا دوسرا نام ہے۔
رک جانا ہی اصل دشمن ہے۔
🌿 صحت مند رہیں – خوش رہیں 🌿

یہ پیغام ہر بزرگ اور ان کے بچوں کے سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔

ایک برازیلین آنکالوجسٹ (کینسر کے ماہر) کی چند خوبصورت باتیں:

1. بڑھاپا 60 سال سے شروع ہو کر 80 سال تک رہتا ہے۔

2. "چوتھا دور" یعنی زیادہ بڑھاپا 80 سے 90 سال تک ہوتا ہے۔

3. "طویل العمری" 90 کے بعد شروع ہو کر موت پر ختم ہوتی ہے۔

4. بزرگوں کا سب سے بڑا مسئلہ تنہائی ہے۔
اکثر شوہر یا بیوی میں سے کوئی ایک پہلے چلا جاتا ہے۔
بیوہ یا اکیلا شخص اپنے خاندان کے لیے بوجھ محسوس ہوتا ہے۔
اس لیے دوستوں سے رابطہ قائم رکھنا، ملنا جلنا، بات چیت کرنا ضروری ہے۔

*چند سنہری اصول:*
اپنی زندگی پر خود اختیار رکھیں۔

کب، کہاں، کس سے ملنا ہے، کیا کھانا ہے، کیا پہننا ہے، کہاں رہنا ہے۔

یہ فیصلے خود کریں، ورنہ دوسروں پر بوجھ بن جائیں گے۔

*ولیم شیکسپیئر نے کہا:*

> "میں ہمیشہ خوش رہتا ہوں!"
کیوں؟ کیونکہ میں کسی سے امید نہیں رکھتا۔
انتظار ہمیشہ اذیت دیتا ہے۔

مسائل کبھی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتے، ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے سوائے موت کے۔

*زندگی کے چھ اصول:*

1. ردِ عمل دینے سے پہلے — گہری سانس لیں۔
2. بولنے سے پہلے — سنیں۔
3. تنقید سے پہلے — خود کو دیکھیں۔
4. لکھنے سے پہلے — سوچیں۔
5. حملہ کرنے سے پہلے — خود کو روکیں۔
6. مرنے سے پہلے — زندگی کو خوبصورت بنائیں۔

*یاد رکھیں:*

بہترین تعلق کامل انسان سے نہیں، بلکہ اُس شخص سے ہوتا ہے جو زندگی کو خوبصورت طریقے سے جینا سیکھ رہا ہے۔
دوسروں کی کمزوریاں دیکھیں مگر ان کی خوبیوں کی بھی تعریف کریں۔

اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں، تو کسی اور کو خوش کریں۔
اگر کچھ پانا چاہتے ہیں، تو پہلے خود کچھ دیں۔
اچھے، مخلص اور دلچسپ لوگوں کے ساتھ رہیں اور خود بھی ویسے بنیں۔
مشکل وقت میں، آنکھوں میں آنسو ہونے کے باوجود مسکرا کر کہیے:
 *"سب ٹھیک ہے، کیونکہ ہم ارتقائی سفر کے خوبصورت پھل ہیں!"*

🌸 اگر آپ اس پیغام کو کسی سے شیئر نہیں کرتے تو شاید آپ اکیلے ہیں۔
🌺 اسے ان لوگوں کو بھیجیں جنہیں آپ عزیز رکھتے ہیں — تاکہ وہ بھی مسکرا سکیں۔🥰❤️



 

 


Comments

Popular posts from this blog

The History of Calander.

  بارہ مہینوں کے نام کیسے پڑے؟ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کاموقع دینے والی دلچسپ داستان سال کے365 دن 12؍ مہینے رکھتے ہیں۔ ان میں کوئی30، کوئی31 اور کوئی28 یا29 دن کا ہوتا ہے۔  ان مہینوں کے نام کس طرح رکھے گئے، یہ داستان دلچسپ پس منظر رکھتی ہے۔                                  جنوری عیسوی سال کے پہلے مہینے کا نام، رومیوں کے ایک دیوتا جانس (Janus) کے نام پر رکھا گیا۔  جانس دیوتا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی پوجا صرف جنگ کے دنوں میں کی جاتی تھی ,امن میں نہیں۔ دیوتا کے دو سر تھے، جن سے وہ بیک وقت آگے پیچھے دیکھ سکتا تھا۔اس مہینے کا نام جانس یوں رکھا گیاکہ جس طرح دیوتا اپنے دو سروں کی وجہ سے آگے پیچھے دیکھ سکتا ہے، اسی طرح انسان بھی جنوری میں اپنے ماضی و حال کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنوری کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ جنوا (Janua) سے اخذ کیاگیا جس کا مطلب ہے ’’دروازہ‘‘۔ یوں جنوری کا مطلب ہوا ’’سال کا دروازہ‘‘۔ماہ جنوری31؍ دِنوں پر مشتمل ہے۔           ...

The history of December Holidays

  The December holidays in the Indian subcontinent originated during the period of British rule (the British Raj). Origin of Public Holiday: As the ruling power was Christian, Christmas Day (December 25th) was established as a major public and government holiday throughout British India. Early Celebrations: Records from colonial-era cities like Calcutta (Kolkata) show elaborate and extensive Christmas celebrations by the European community beginning as early as the mid-18th century and becoming more widespread and lavish by the 19th century. Banks and government offices would typically close Winter School Vacations The Fortnight Break: The British-style education system introduced a fortnight-long (two-week) break around the Christmas and New Year period. This was a direct import of the academic calendar from the United Kingdom. This practice was well-established by the early to mid-19th century. Climatic Necessity: For many colder, high-altitude regions (especially in the north), ...

سورہ الطارق

 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* 85:21 *بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ*  لفظی ترجمہ:  *بَلْ هُوَ:* بلکہ وہ | *قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ:* قرآن مجید ہے ترجمہ: 85:21 (ان کے جھٹلانے سے قرآن پر کوئی اثر نہیں پڑتا) بلکہ یہ بڑی عظمت والا قرآن ہے۔ Nay, this is a Glorious Qur'an, 85:22 *فِىۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ*  لفظی ترجمہ:  *فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ:* لوح محفوظ میں ترجمہ: 85:22 جو لوح محفوظ میں درج ہے۔ (Inscribed) in a Tablet Preserved!  85. Al- Burooj 21-22 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* *وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِۙ*  لفظی ترجمہ:  *وَالسَّمَآءِ:* قسم ہے آسمان کی | *وَالطَّارِقِ:* اور رات کو آنے والے کی ترجمہ: 86:01 قسم ہے آسمان کی اور رات کو آنے والے کی۔ By the Sky and the Night-Visitant (therein);- 86:02 *وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الطَّارِقُۙ‏* لفظی ترجمہ: *وَمَآ اَدۡرٰٮكَ:* اور کیا چیز بتائے تجھ کو | *مَا الطَّارِقُ:* وہ رات کو آنے والا کیا ہے ترجمہ: 86:02 اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ رات کو آنے والا کیا ہے ؟ And what will explain to thee what the N...