Skip to main content

سوال یا زوال۔۔۔۔۔سوال کی اہمیت

 


جس نے سوال نہیں کیا وہ زوال ہوا !!!!


انسان کی تاریخ ہمیں یہ تو بتاتی ہے کہ سوال اٹھانے والوں پہ عرصہ حیات تنگ کیا گیا، مگر تاریخ ایسی ایک بھی مثال دینے سے قاصر ہے جس میں سوال کو گلا گھونٹ کے مار دیا گیا ہو۔

وہ میزائل ابھی ایجاد نہیں ہوا جو سوال کو مار گِرانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وہ گولی ابھی تخلیق ہونا باقی ہے جو سوال کے بھیجے میں اُتر سکے۔ خنجر کی وہ دھار اب تک مجہول ہے جو سوال کی شہہ رگ کاٹ سکے۔ سوال ایتھنز کا سقراط نہیں ہے کہ جس کو زہر کا پیالہ پکڑا دیا جائے، سوال امام احمد کی پشت بھی نہیں ہے کہ اس پہ کوڑے برسائے جائیں۔ سوال اٹلی کا گلیلیو نہیں ہے کہ تذلیل کی جائے۔ سوال قرطبہ کا ابنِ رشد بھی نہیں ہے کہ اول اسے قید کیا جائے اور پھر جامع مسجد کے ستون سے باندھ کر باری باری اس کے چہرے پہ تھوکا جائے۔ سوال کوئی یعقوب الکندی کا کتب خانہ نہیں ہے کہ اس کو جلا دیا جائے اور سوال اس ساٹھ سالہ مفکر کی خمیدہ کمر بھی نہیں کہ اس پہ تازیانے برسائے جائیں۔ سوال تو زکریا رازی کا سر بھی نہیں ہے کہ بادشاہ اس کی کتاب اسی کے سر پہ مسلسل اس طرح مارنے کا حکم دے کہ یا سر پھٹے یا کتاب پھٹے، اور سوال اس دانشور کی آنکھ بھی نہیں ہے جو سر پہ لگنے والی چوٹوں کے سبب بینائی کھودے۔ سوال راشد رحمان نہیں ہے کہ مار دیا جائے، سوال ایبٹ آباد کی عنبرین نہیں ہے کہ جلا کر راکھ کر دی جائے۔

ایک چینی کہاوت ہے ’’جو شخص سوال پوچھتا ہے محض پانچ منٹ کیلئے ہی بے وقوف گردانا جاتا ہے لیکن جو بالکل سوال ہی نہیں کرتا وہ عمر بھر کیلئے بے وقوف رہتا ہے۔‘‘ گویا زندہ ذہنوں میں کرید اور جستجو کا عمل شعور کے ارتقاء کے سفر پر مائل رکھتا ہے۔ سوال پوچھنے والوں میں دوسروں کی بات سمجھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ وہ اپنے ذہن کے دریچے نئے افکار کی آمدو رفت کیلئے کھلا رکھتے ہیں۔ بااعتماد شخصیت ہونے کی وجہ سے وہ اپنے خوف اور مفروضات کی دیواروں کو توڑنے اور غلط نظام کے نافذ کرنے والوں کو چیلنج کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اس طرح وہ سماجی تبدیلی کے عمل میں معاونت کرتے ہیں۔ پس اگر کسی معاشرے میں خاطر خواجہ تبدیلی اور ترقی ہو رہی ہے تو سمجھ جاہیے کہ یہ ایسے ہی پرتجسس ذہنوں کی جدوجہد اور انقلاب ہے۔ عظیم سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن کا کہنا ہے کہ ’’میرے اندر کوئی خاص صلاحیت نہیں۔ بس میں انتہائی پرتجسس ہوں۔‘‘

اب اس کے برعکس ان افراد کو دیکھئے جو سوال کیوں کتراتے ہیں؟ یہ اذہان وہ ہیں جو اپنی بوسیدہ روایات کی عمارت میں بند محض اپنی ہی سرگوشی کو سنتے اور باہر کی آوازوں پہ پہرہ لگا دیتے ہیں۔ ان کا یہ عمل دراصل روح کی خوابیدگی، اندھیرے اور گھٹن کے مترادف ہے۔ غور و خوض، فکر و تجسس، سوالات کا پوچھنا اور اس کی تلاش کا عمل دراصل خوابوں اور تخلیق کا امین اور سماجی و سائنسی ترقی کا اہم جزو ہے جبکہ اس کا فقدان فکری بانجھ پن کی دلیل ہے ایسے افراد اکثر اپنے اندر کے خالی پن کو باہر کی شوشا سے بھرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں لیکن اس طرح کھوکھلا پن دور نہیں ہوتا۔ ان جیسے افراد کیلئے ہی حضرت علی کا قول ہے کہ “دنیا والے ایسے سواروں کی مانند ہیں جو سو رہے ہیں اور سفر جاری ہے۔”

کچھ لوگ سوال پوچھنے اور غلط فرسودہ روایات اور عقیدوں کو چیلنج کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

سوال پوچھنے والے کو خوف ہوتا ہے کہ انہیں کند ذہن اور جاہل نہ سمجھا جائے۔ حالانکہ انہیں سمجھنا چاہیے کہ دنیا کے عظیم مفکروں کا وقت جواب دینے سے زیادہ سوالات میں صرف ہوا۔ عظیم مفکر والٹیر کا کہنا ہے ’’انسان کو اس کے جوابات سے یا سوالات سے پرکھو۔” کچھ افراد اس لئے سوال نہیں کرتے کہ وہ اپنی معلومات کو وسیع جامع اور حتمی سمجھتے ہیں لہٰذا مزید سوچنے اور پوچھنے کو گوارا نہیں کرتے وہ اپنے آپ کو یقینی اور کامیاب ثابت کرنے میں مصروف رہتے ہیں.

کچھ افراد ناکامی کے خوف سے ذہنوں کو تالے لگا دیتے ہیں جو ان کی عدم تحفظ اور ان کی نظر میں اپنی کم وقعتی کی علامت ہے۔ دراصل ایک بظاہر یعنی سوال بھی طاقت، ذہانت اور اعتماد کی دلیل ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آئزک نیوٹن کا یہ سوال کہ ’’سیب درخت سے ٹوٹ کر زمین پر کیوں گرتا ہے۔ کشش ثقل کا پتہ نہ دیتا اور نہ ہی چارلس ڈارون کی تھیوری آف نیچرل سلیکشن جنم لیتا۔ اُس دور کے عظیم سائنسدان اور نظریہ اضافت کے بانی البرٹ آئن اسٹائن کا کہنا ہے کہ اگر بنی نوع انسان کو زندہ رہنا اور شعور کے اگلے قدم کی جانب بڑھنا ہے تو نئی سوچ ناگزیر ہے۔ کُچھ لوگ اس لئے سوال نہیں کرتے کہ وہ اپنے میں مخالفین اور مناظروں سے نپٹنے کی ہمت نہیں کر پاتے۔ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ان کی سوچ بچار اور بے باک چیلنج عقائد اور روایات کی اس عمارت کو ڈھا دینے کے مترادف ہو گا کہ جس پر معاشرے کی اکثریت آنکھ بند کئے ٹیک لگائے بیٹھی ہے۔ وہ اپنی جان، رشتہ داری، خاندان اور دوستی کے تحفظ میں زبان پر تالے لگا لیتے ہیں۔

سوال کبھی مرنے کے لیے جنم نہیں لیتا۔ سوال یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ سوال ہوتا ہے تو پھر محدود بھی نہیں ہوتا۔ سوال کبھی غلط بھی نہیں ہوتا۔ سوال متعلقہ یا غیر متعلقہ ہوسکتا ہے۔ غلط صرف جواب ہوسکتا ہے۔ سوال کی زندگی کبھی ختم نہیں ہوسکتی، سوال کی صرف بے قراری ختم ہوسکتی ہے۔ یہ بے قراری ختم کرنے کی طاقت بندوق میں ہے نہ آئینِ زباں بندی میں ہے۔ سوال کی بے قراری ختم کرنے کی طاقت اگر کسی میں ہے تو وہ صرف ’’جواب‘‘ ہے۔ جواب کا معاملہ یہ ہے کہ وہ صرف علم پہ مہربان ہوتا ہے۔

نئے سوال مدلل جواب چاہیں گے

ہمارے بچے نیا اب نصاب چاہیں گے

حساب مانگیں گے اک دن وہ لمحے لمحے کا

ہمارے عہد کا وہ احتساب چاہیں گے

لہٰذا ایک سیاسی کارکُن کے لئے ضروری ہے کہ فکر و تجسس کے عمل کو زندہ رکھے۔ ایسے عمل میں مصروف قومیں بھی خواب دیکھتی اور ان کی تعبیریں تلاش کرتی ہیں۔ معاشرتی ناانصافی، ظُلم و جبر اور انتظامی امور کے ڈھانچے کو چیلنج کرنے کی ہمت رکھتی ہیں اور آنے والے کل کو آج کی فکر کی کھاد سے زرخیز کرتی ہیں کہ جس پر نئی نسل کی نمو ہوگی۔ زمینی خداؤں سے چھٹکارا ملے گی، ایک آزاد کھلی فضا اور روشن مستقبل ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

The History of Calander.

  بارہ مہینوں کے نام کیسے پڑے؟ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کاموقع دینے والی دلچسپ داستان سال کے365 دن 12؍ مہینے رکھتے ہیں۔ ان میں کوئی30، کوئی31 اور کوئی28 یا29 دن کا ہوتا ہے۔  ان مہینوں کے نام کس طرح رکھے گئے، یہ داستان دلچسپ پس منظر رکھتی ہے۔                                  جنوری عیسوی سال کے پہلے مہینے کا نام، رومیوں کے ایک دیوتا جانس (Janus) کے نام پر رکھا گیا۔  جانس دیوتا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی پوجا صرف جنگ کے دنوں میں کی جاتی تھی ,امن میں نہیں۔ دیوتا کے دو سر تھے، جن سے وہ بیک وقت آگے پیچھے دیکھ سکتا تھا۔اس مہینے کا نام جانس یوں رکھا گیاکہ جس طرح دیوتا اپنے دو سروں کی وجہ سے آگے پیچھے دیکھ سکتا ہے، اسی طرح انسان بھی جنوری میں اپنے ماضی و حال کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنوری کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ جنوا (Janua) سے اخذ کیاگیا جس کا مطلب ہے ’’دروازہ‘‘۔ یوں جنوری کا مطلب ہوا ’’سال کا دروازہ‘‘۔ماہ جنوری31؍ دِنوں پر مشتمل ہے۔           ...

The history of December Holidays

  The December holidays in the Indian subcontinent originated during the period of British rule (the British Raj). Origin of Public Holiday: As the ruling power was Christian, Christmas Day (December 25th) was established as a major public and government holiday throughout British India. Early Celebrations: Records from colonial-era cities like Calcutta (Kolkata) show elaborate and extensive Christmas celebrations by the European community beginning as early as the mid-18th century and becoming more widespread and lavish by the 19th century. Banks and government offices would typically close Winter School Vacations The Fortnight Break: The British-style education system introduced a fortnight-long (two-week) break around the Christmas and New Year period. This was a direct import of the academic calendar from the United Kingdom. This practice was well-established by the early to mid-19th century. Climatic Necessity: For many colder, high-altitude regions (especially in the north), ...

سورہ الطارق

 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* 85:21 *بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ*  لفظی ترجمہ:  *بَلْ هُوَ:* بلکہ وہ | *قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ:* قرآن مجید ہے ترجمہ: 85:21 (ان کے جھٹلانے سے قرآن پر کوئی اثر نہیں پڑتا) بلکہ یہ بڑی عظمت والا قرآن ہے۔ Nay, this is a Glorious Qur'an, 85:22 *فِىۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ*  لفظی ترجمہ:  *فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ:* لوح محفوظ میں ترجمہ: 85:22 جو لوح محفوظ میں درج ہے۔ (Inscribed) in a Tablet Preserved!  85. Al- Burooj 21-22 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* *وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِۙ*  لفظی ترجمہ:  *وَالسَّمَآءِ:* قسم ہے آسمان کی | *وَالطَّارِقِ:* اور رات کو آنے والے کی ترجمہ: 86:01 قسم ہے آسمان کی اور رات کو آنے والے کی۔ By the Sky and the Night-Visitant (therein);- 86:02 *وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الطَّارِقُۙ‏* لفظی ترجمہ: *وَمَآ اَدۡرٰٮكَ:* اور کیا چیز بتائے تجھ کو | *مَا الطَّارِقُ:* وہ رات کو آنے والا کیا ہے ترجمہ: 86:02 اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ رات کو آنے والا کیا ہے ؟ And what will explain to thee what the N...