Skip to main content

بچوں کا رویہ اور ان کے والدین

 


تم اور میں کبھی بیوی اور شوہر تھے؛

پھر 

تم ماں بن گئیں اور میں باپ بن کے رہ گیا


تم نے گھر کا نظام سنبھالا اور میں نے زریعہ معاش کا

اور پھر تم

"گھر سنبھالنے والی ماں" بن گئیں  اور میں کمانے والا باپ بن کر رہ گیا۔۔۔۔


بچوں کو چوٹ لگی تو تم نے گلے لگایا اور میں نے سمجھایا

تم محبت کرنے والی ماں بن گئیں اور میں صرف سمجھانے والا باپ ہی رہ گیا۔۔


بچوں نے غلطیاں کیں تم ان کی حمایت کر کے "understanding mom" بن گئیں اور میں

"نہ سمجھنے والا" باپ بن کے رہ گیا۔۔۔۔


"بابا ناراض ہوں گے" یہ کہہ کر تم اپنے بچوں کی"best friend" بن گئیں۔۔۔ اور میں غصہ کرنے والا باپ بن کے رہ گیا....


تم سارا دن بچوں سے راز و نیاز کرتے ہوئے اپنا مستقبل محفوظ بناتے ہوئے بچوں کے ذہنوں میں گھر کرتی چلی گئیں۔۔۔

اور میں فقط گھر کا مستقبل بنانے کے لیے اپنا آج برباد کرتا چلا گیا۔


تمہارے آنسوؤں میں ماں کا پیار نظر آنے لگا اور میں بچوں کی انکھوں میں فقط بے رحم باپ بن کے رہ گیا۔۔۔۔


تم چاند کی چاندنی بنتی چلی گئیں اور پتہ نہیں کب میں سورج کی طرح آگ اگلتا باپ بن کر رہ گیا۔۔۔


تم ایک "رحم دل اور شفیق ماں" بنتی گئیں اور میں تم سب لوگوں کی زندگی کا بوجھ اٹھانے والا صرف ایک باپ بن کر رہ گیا۔


یہ ایک انتہائی تلخ معاشرتی تصویر ہے۔


*بہت کم ایسی مائیں ملیں گی جو اپنے بچوں کے سامنے اُنکے باپ کا مقام بُلند کرکے رکھتی ہیں جو بچوں کو یہ بتاتی ہیں کہ کیسے اُنکا باپ اپنے آگے کا نوالہ اپنے بچوں کو کھلا کر خود بھوکا رہ جاتا ہے۔ کیسے ایک باپ سارا دن اپنے بچوں کے رزق کیلئے مارا مارا پھرتا ہے۔ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے کیا کیا قربانیاں دیتا ہے اور کن کن تکالیف کا سامنا کرتا ہے- کسطرح اُنکو اُنکے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے اپنے آپ کو برباد کر لیتا ہے خود کو ختم کر لیتا ہے۔ تب کہیں جاکر اولاد کسی قابل بنتی ہے۔*

*مگر اولاد کو یہ بتانے اور سمجھانے والی مائیں اُنکو یہ نہیں بتا پاتیں۔ اسی لیئے اولاد اُس وقت تک اس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتی جب تک وہ خود باپ نہ بن جائے اور تب تک بہت دیر ہو چُکی ہوتی ہے۔*

Comments

Popular posts from this blog

The History of Calander.

  بارہ مہینوں کے نام کیسے پڑے؟ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کاموقع دینے والی دلچسپ داستان سال کے365 دن 12؍ مہینے رکھتے ہیں۔ ان میں کوئی30، کوئی31 اور کوئی28 یا29 دن کا ہوتا ہے۔  ان مہینوں کے نام کس طرح رکھے گئے، یہ داستان دلچسپ پس منظر رکھتی ہے۔                                  جنوری عیسوی سال کے پہلے مہینے کا نام، رومیوں کے ایک دیوتا جانس (Janus) کے نام پر رکھا گیا۔  جانس دیوتا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی پوجا صرف جنگ کے دنوں میں کی جاتی تھی ,امن میں نہیں۔ دیوتا کے دو سر تھے، جن سے وہ بیک وقت آگے پیچھے دیکھ سکتا تھا۔اس مہینے کا نام جانس یوں رکھا گیاکہ جس طرح دیوتا اپنے دو سروں کی وجہ سے آگے پیچھے دیکھ سکتا ہے، اسی طرح انسان بھی جنوری میں اپنے ماضی و حال کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنوری کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ جنوا (Janua) سے اخذ کیاگیا جس کا مطلب ہے ’’دروازہ‘‘۔ یوں جنوری کا مطلب ہوا ’’سال کا دروازہ‘‘۔ماہ جنوری31؍ دِنوں پر مشتمل ہے۔           ...

The history of December Holidays

  The December holidays in the Indian subcontinent originated during the period of British rule (the British Raj). Origin of Public Holiday: As the ruling power was Christian, Christmas Day (December 25th) was established as a major public and government holiday throughout British India. Early Celebrations: Records from colonial-era cities like Calcutta (Kolkata) show elaborate and extensive Christmas celebrations by the European community beginning as early as the mid-18th century and becoming more widespread and lavish by the 19th century. Banks and government offices would typically close Winter School Vacations The Fortnight Break: The British-style education system introduced a fortnight-long (two-week) break around the Christmas and New Year period. This was a direct import of the academic calendar from the United Kingdom. This practice was well-established by the early to mid-19th century. Climatic Necessity: For many colder, high-altitude regions (especially in the north), ...

سورہ الطارق

 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* 85:21 *بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ*  لفظی ترجمہ:  *بَلْ هُوَ:* بلکہ وہ | *قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ:* قرآن مجید ہے ترجمہ: 85:21 (ان کے جھٹلانے سے قرآن پر کوئی اثر نہیں پڑتا) بلکہ یہ بڑی عظمت والا قرآن ہے۔ Nay, this is a Glorious Qur'an, 85:22 *فِىۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ*  لفظی ترجمہ:  *فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ:* لوح محفوظ میں ترجمہ: 85:22 جو لوح محفوظ میں درج ہے۔ (Inscribed) in a Tablet Preserved!  85. Al- Burooj 21-22 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* *وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِۙ*  لفظی ترجمہ:  *وَالسَّمَآءِ:* قسم ہے آسمان کی | *وَالطَّارِقِ:* اور رات کو آنے والے کی ترجمہ: 86:01 قسم ہے آسمان کی اور رات کو آنے والے کی۔ By the Sky and the Night-Visitant (therein);- 86:02 *وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الطَّارِقُۙ‏* لفظی ترجمہ: *وَمَآ اَدۡرٰٮكَ:* اور کیا چیز بتائے تجھ کو | *مَا الطَّارِقُ:* وہ رات کو آنے والا کیا ہے ترجمہ: 86:02 اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ رات کو آنے والا کیا ہے ؟ And what will explain to thee what the N...