Skip to main content

بیٹیوں سے چند گذراشات

 


اپنی بیٹیوں کو درج ذیل باتیں سکھائیے ۔

1۔سیڑھی پر اس وقت مت چڑھو جب آپ کے پیچھے کوٸی مرد بھی سیڑھی چڑھ رہا ہو بلکہ  سیڑھی کے کسی ایک زاویہ پر رک جاٶ اور اس کے بعد چڑھیے۔

_____

2۔لفٹ پر کسی اجنبی مرد کی موجودگی میں مت چڑھو ہو اس کے نکلنے کا انتظار کرو اور بعد میں چڑھیے ۔

_____

3۔اپنے چچا،ماموں ،خالہ کے بیٹوں سے ہاتھ کے ساتھ مصافحہ مت کیجیے۔

_____

4۔اپنے ساتھ گفتگو کرنے والے شخص کےساتھ ہمیشہ مناسب فاصلہ رکھیے۔

_____

5۔ہمیشہ کسی کے ساتھ معاملہ کرنے کی حد مقرر کریں، چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، اور اپنے وقار کا خیال رکھیے۔

_____


6- سڑک پر اپنے دوستوں کے ساتھ مذاق نہ کریں اور سڑک کے آداب کا خیال رکھیے۔

_____

7- جب کوٸی ملنے آٸے  تو اسے توجہ دو ، بڑے کے احترام میں کھڑے ہو جاٶ اور  تھکے ماندے  اور بوڑھے کو بیٹھنے کے لیے کرسی دیجیے

___________

8-گلی محلہ  کے سبھی  مرد باپ کے سوا  اجنبی ہوتے ہیں، اس لیے ان سے بلاضرورت بات نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ہراساں کرنے والے ذہنی مریض  ہوتے ہیں، چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔

________

9-جب آپ زمین سے کوئی چیز اٹھانے کے لیے نیچے جھکیں  یا کسی دکان، بازار یا عوامی جگہ پر کوئی چیز دیکھیں تو  رکوع کی حالت میں مت جھکو.. کوشش کرو بیٹھ کر چیز دیکھو .. پھر کھڑے ہو جائیں.. تاکہ آپ کا پردہ یعنی ستر یا جسم  پیچھے سے بے نقاب نہ ہو۔

________

10-اپنی پوری زندگی بس یا ٹیکسی میں بلند آواز سے باتیں مت کیجیے۔۔۔!!

سبھی بیٹوں, لڑکوں, مردوں کے لیے بھی یہی سب باتیں  اور آداب  'ضرور' کرنے والے ہیں مجھ سمیت

Comments

Popular posts from this blog

The History of Calander.

  بارہ مہینوں کے نام کیسے پڑے؟ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کاموقع دینے والی دلچسپ داستان سال کے365 دن 12؍ مہینے رکھتے ہیں۔ ان میں کوئی30، کوئی31 اور کوئی28 یا29 دن کا ہوتا ہے۔  ان مہینوں کے نام کس طرح رکھے گئے، یہ داستان دلچسپ پس منظر رکھتی ہے۔                                  جنوری عیسوی سال کے پہلے مہینے کا نام، رومیوں کے ایک دیوتا جانس (Janus) کے نام پر رکھا گیا۔  جانس دیوتا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی پوجا صرف جنگ کے دنوں میں کی جاتی تھی ,امن میں نہیں۔ دیوتا کے دو سر تھے، جن سے وہ بیک وقت آگے پیچھے دیکھ سکتا تھا۔اس مہینے کا نام جانس یوں رکھا گیاکہ جس طرح دیوتا اپنے دو سروں کی وجہ سے آگے پیچھے دیکھ سکتا ہے، اسی طرح انسان بھی جنوری میں اپنے ماضی و حال کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنوری کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ جنوا (Janua) سے اخذ کیاگیا جس کا مطلب ہے ’’دروازہ‘‘۔ یوں جنوری کا مطلب ہوا ’’سال کا دروازہ‘‘۔ماہ جنوری31؍ دِنوں پر مشتمل ہے۔           ...

The history of December Holidays

  The December holidays in the Indian subcontinent originated during the period of British rule (the British Raj). Origin of Public Holiday: As the ruling power was Christian, Christmas Day (December 25th) was established as a major public and government holiday throughout British India. Early Celebrations: Records from colonial-era cities like Calcutta (Kolkata) show elaborate and extensive Christmas celebrations by the European community beginning as early as the mid-18th century and becoming more widespread and lavish by the 19th century. Banks and government offices would typically close Winter School Vacations The Fortnight Break: The British-style education system introduced a fortnight-long (two-week) break around the Christmas and New Year period. This was a direct import of the academic calendar from the United Kingdom. This practice was well-established by the early to mid-19th century. Climatic Necessity: For many colder, high-altitude regions (especially in the north), ...

تصوف کس طرح حاصل ہو

  تصوف میں انسانی وجود کو ظاہری اور باطنی جہتوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ظاہری پہلو بدنِ خاکی ہے، جبکہ باطنی پہلو روحانی مراکز یا لطائف ہیں، جن کے ذریعے انسان قربِ الٰہی کے مختلف مدارج طے کرتا ہے۔ ان لطائف میں سے ایک نہایت اہم اور نازک لطیفہ "لطیفۂ سری" (Latifa-e-Sirri) ہے، جو سالک کے باطن میں اسرار و مکاشفات کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس کی بیداری اور تربیت براہِ راست مرشدِ کامل کی نگرانی اور روحانی توجہ سے ممکن ہوتی ہے۔ لطائفِ باطن کا پس منظر صوفیاء کرام کے نزدیک انسان کے باطن میں مختلف روحانی مراکز (لطائف) موجود ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت اور قرب کے حصول کا ذریعہ بنایا۔ ان کی مشہور ترتیب درج ذیل ہے: 1. لطیفۂ قلب 2. لطیفۂ روح 3. لطیفۂ سری 4. لطیفۂ خفی 5. لطیفۂ اخفی ان میں لطیفۂ سری ایک درمیانی اور نہایت نازک مقام رکھتا ہے، جو "باطن کا باطن" کہلانے کے لائق ہے۔ لطیفۂ سری کی حقیقت "سِرّ" عربی زبان میں "راز" یا "باطنی پوشیدگی" کے معنی میں آتا ہے۔ اس اعتبار سے لطیفۂ سری وہ مقام ہے جہاں بندے اور خالق کے درمیان روحانی راز منکشف ہوتے...