Skip to main content

اک سبق آموز تحریر


(ایک پڑھنے اورسوچنے والی تحریر۔۔۔ایڈمن)


میں روزے تو پورے رکھتا ہوں لیکن معلوم نہیں کیوں مجھے دلی سکون نہیں ملتا، مولوی کے پاس گیا وہ پوچھنے لگے.
تم روزے میں باجماعت نماز کا اہتمام کرتے ہو؟..
بالکل جناب؛..
پھر پوچھنے لگے.
تراویح میں پورا قرآن سنتے ہو اور روزانہ تلاوت کرتے ہو؟..
میں بولا.
مولوی صاحب تراویح میں قرآن سننے کے علاوہ رمضان میں دو قرآن بھی ختم کرتا ہوں؛..
صدقہ خیرات کرتے ہو؟..
جی جی بالکل اور اس کے علاوہ مسجد مدارس میں چندہ بھی دیتا ہوں؛..
اب مولوی صاحب پورے یقین سے فرمانے لگے.
تم پکے مسلمان ہو تمہارے روزے بالکل پکے ہیں، رہی بات دلی سکون کی تو یہ تمہاری عاجزی ہے؛..
میں مولوی صاحب کے پاس سے گھر آگیا لیکن دل کو قرار نہ ملا، آج تراویح کے بعد گھر کے باہر ہوٹل پر بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ ایک ملنگ ٹائپ آدمی
میرے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا.
مجھے چائے پلا پھر تجھے تیرا جواب دیتا ہوں؛..
مجھے جھٹکا لگا، اس کے لیے چائے منگوائی، چائے پی کر وہ کہنے لگا.
تو پانچ وقت نمازیں پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، حج بھی کرچکا اور زکوٰۃ بھی دیتا ہے لیکن تجھے دلی سکون نہیں ملتا یہی ہے نہ تیرا مسئلہ؟..
ملنگ سے اپنے دل کا حال سن کر میں نے عقیدت سے اس کا ہاتھ پکڑلیا.
مرشد بالکل یہی میرا مسئلہ ہے جس نے مجھے پریشان کیا ہوا ہے، ایسا کیوں ہے؟..
ملنگ نے میرے تین غریب رشتہ دار کے نام گنوائے اور پھر کہنے لگا.
کیا تو نے کبھی ان کے ساتھ صلہ رحمی والا معاملہ کیا؟..
اس کی بات سن کر مجھے یقین ہوگیا کہ یقیناً یہ کوئی پہنچا ہوا بندہ ہے جو سب جانتا ہے تو میں پوری سچائی کے ساتھ بولا.
جناب میرے اور ان کے اسٹیٹس میں زمین آسمان کا فرق ہے تو میں ان غریبوں سے میل جول رکھ کر اپنا اسٹیٹس خراب نہیں کرسکتا؛..
ملنگ نے مجھے غور سے دیکھا. 
اچھا تیرے محلے میں ایک بوڑھے میاں بیوی رہتے ہیں جن کے دونوں بیٹے شادی کے بعد الگ ہوچکے ہیں کیا تو نے ان کی تنہائی دور کرنے کی کوشش کی یا کبھی ان سے ان کی ضرورت پوچھی؟..
میں جھلاکر بولا.
آپ بھی کیسی بات کرتے ہو ان دونوں کا خیال ان کے بیٹوں کو رکھنا چاہیے میں کیوں رکھوں؟..
ملنگ پھر پوچھنے لگا.
کیا تو تجارت اپنی پوری ایمانداری سے کرتا ہے؟..
اس سوال پر میں گھوم گیا، اس سے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا تو مجبوراً سچ بولنا پڑا.
ارے جناب آپ تو جانتے ہی ہیں کہ آجکل ہر کاروبار جھوٹ اور دھوکے پر ہی ٹکا ہوا ہے تو مجھے بھی ان دو کا سہارا لینا پڑتا ہے؛..
میرا گول مول جواب سن کر ملنگ مسکرانے لگا.
اچھا اب یہ بتا کہ کیا تو نے اپنے قول اور فعل سے کسی کو دکھ پہنچایا ہو، اور تجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا ہو پھر تو نے اس سے معافی مانگی ہو؟..
ملنگ کا یہ سوال سن کر میں اپنی میموری چیک کرنے لگا لیکن مجھے اپنی غلطی کہیں دکھائی ہی نہیں دی بلکہ مجھے اپنا آپ صاف شفاف دکھائی دیا.
جناب آپ بھی حد کرتے ہیں مجھ جیسے پکے مسلمان پر شک کررہے ہیں، میری زندگی تو الحمداللہ آئینے کی مانند صاف شفاف گزری ہے؛..
ملنگ قہقہے لگانے لگا، اب مجھے ملنگ پر غصہ آنے لگا اور اسے گھورتے ہوئے اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگا پانچ منٹ بعد ملنگ یہ کہہ کر چلا گیا.
تو چاہے ہزار سال تک اسی طرح نمازیں پڑھتا رہے، روزے رکھتا رہے، زکوٰۃ دیتا رہے، ہر سال حج بھی کرتا رہے لیکن تجھے تب بھی سکون نہیں ملے گا،
کیونکہ تو صرف عباداتی مسلمان ہے اور وہ تو ابلیس بھی تھا، اللہ کو عبادت کے ساتھ معاملاتی، اخلاقی اور حقوقی مسلمان بھی چاہیے ہوتا ہے،
جو تو بالکل بھی نہیں؛..
ملنگ کے جانے کے بعد سے میں ابھی تک کنفیوز ہوں اور اپنے اندر کی برائیاں تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہوں لیکن ابھی تک مجھے
اپنے اندر کی کوئی برائی نظر نہیں آئی -

Comments

Popular posts from this blog

The History of Calander.

  بارہ مہینوں کے نام کیسے پڑے؟ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کاموقع دینے والی دلچسپ داستان سال کے365 دن 12؍ مہینے رکھتے ہیں۔ ان میں کوئی30، کوئی31 اور کوئی28 یا29 دن کا ہوتا ہے۔  ان مہینوں کے نام کس طرح رکھے گئے، یہ داستان دلچسپ پس منظر رکھتی ہے۔                                  جنوری عیسوی سال کے پہلے مہینے کا نام، رومیوں کے ایک دیوتا جانس (Janus) کے نام پر رکھا گیا۔  جانس دیوتا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی پوجا صرف جنگ کے دنوں میں کی جاتی تھی ,امن میں نہیں۔ دیوتا کے دو سر تھے، جن سے وہ بیک وقت آگے پیچھے دیکھ سکتا تھا۔اس مہینے کا نام جانس یوں رکھا گیاکہ جس طرح دیوتا اپنے دو سروں کی وجہ سے آگے پیچھے دیکھ سکتا ہے، اسی طرح انسان بھی جنوری میں اپنے ماضی و حال کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنوری کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ جنوا (Janua) سے اخذ کیاگیا جس کا مطلب ہے ’’دروازہ‘‘۔ یوں جنوری کا مطلب ہوا ’’سال کا دروازہ‘‘۔ماہ جنوری31؍ دِنوں پر مشتمل ہے۔           ...

The history of December Holidays

  The December holidays in the Indian subcontinent originated during the period of British rule (the British Raj). Origin of Public Holiday: As the ruling power was Christian, Christmas Day (December 25th) was established as a major public and government holiday throughout British India. Early Celebrations: Records from colonial-era cities like Calcutta (Kolkata) show elaborate and extensive Christmas celebrations by the European community beginning as early as the mid-18th century and becoming more widespread and lavish by the 19th century. Banks and government offices would typically close Winter School Vacations The Fortnight Break: The British-style education system introduced a fortnight-long (two-week) break around the Christmas and New Year period. This was a direct import of the academic calendar from the United Kingdom. This practice was well-established by the early to mid-19th century. Climatic Necessity: For many colder, high-altitude regions (especially in the north), ...

سورہ الطارق

 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* 85:21 *بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ*  لفظی ترجمہ:  *بَلْ هُوَ:* بلکہ وہ | *قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ:* قرآن مجید ہے ترجمہ: 85:21 (ان کے جھٹلانے سے قرآن پر کوئی اثر نہیں پڑتا) بلکہ یہ بڑی عظمت والا قرآن ہے۔ Nay, this is a Glorious Qur'an, 85:22 *فِىۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ*  لفظی ترجمہ:  *فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ:* لوح محفوظ میں ترجمہ: 85:22 جو لوح محفوظ میں درج ہے۔ (Inscribed) in a Tablet Preserved!  85. Al- Burooj 21-22 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* *وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِۙ*  لفظی ترجمہ:  *وَالسَّمَآءِ:* قسم ہے آسمان کی | *وَالطَّارِقِ:* اور رات کو آنے والے کی ترجمہ: 86:01 قسم ہے آسمان کی اور رات کو آنے والے کی۔ By the Sky and the Night-Visitant (therein);- 86:02 *وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الطَّارِقُۙ‏* لفظی ترجمہ: *وَمَآ اَدۡرٰٮكَ:* اور کیا چیز بتائے تجھ کو | *مَا الطَّارِقُ:* وہ رات کو آنے والا کیا ہے ترجمہ: 86:02 اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ رات کو آنے والا کیا ہے ؟ And what will explain to thee what the N...