Skip to main content

THREE FACTS OF LIFE.

THREE FACTS OF LIFE.

*تین فطری قوانین جو کڑوے ہیں لیکن حق ہیں*


*پہلا قانون فطرت*

 اگر کھیت میں دانہ نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے گھاس پھوس سے بھر دیتی ہے. اسی طرح اگر دماغ کو اچھی فکروں سے نہ بھرا جاۓ تو کج فکری اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے.

*دوسرا قانون فطرت*

جس کے پاس جوکچھ ہوتا ہے وہی بانٹتا ہے. *خوش انسان* خوشی بانٹتا ہے
*غمزدہ انسان* غم بانٹتا ہے.
*عالم* علم بانٹتا ہے
*مذہبی اور دیندار انسان* دین بانٹتا ہے.
*خوف زدہ انسان* خوف بانٹتا ہے.

*تیسرا قانون فطرت*

آپ کو زندگی سے جو کچھ بھی حاصل ہو اسے *ہضم کرنا سیکھیں!* اس لۓ کہ *کھانا* ہضم نہ ہونے پر بیماریاں پیدا ہوتی اور بڑھتی ہیں
اسی طرح *مال وثروت* ہضم نہ ہونے کی صورت میں ریاکاری بڑھتی ہے.
*بات* نہ ہضم ہونے پر چغلی بڑھتی ہے.
*تعریف* نہ ہضم ہونے کی صورت میں غرور میں اضافہ ہوتا ہے.
*مذمت* کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے دشمنی بڑھتی ہے.
*غم* ہضم نہ ہونے کی صورت میں مایوسی بڑھتی ہے ۔
*اقتدار اور طاقت* نہ ہضم ہونے کی صورت میں خطرات میں اضافہ ہوتا ہے.

Comments

Popular posts from this blog

The History of Calander.

  بارہ مہینوں کے نام کیسے پڑے؟ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کاموقع دینے والی دلچسپ داستان سال کے365 دن 12؍ مہینے رکھتے ہیں۔ ان میں کوئی30، کوئی31 اور کوئی28 یا29 دن کا ہوتا ہے۔  ان مہینوں کے نام کس طرح رکھے گئے، یہ داستان دلچسپ پس منظر رکھتی ہے۔                                  جنوری عیسوی سال کے پہلے مہینے کا نام، رومیوں کے ایک دیوتا جانس (Janus) کے نام پر رکھا گیا۔  جانس دیوتا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی پوجا صرف جنگ کے دنوں میں کی جاتی تھی ,امن میں نہیں۔ دیوتا کے دو سر تھے، جن سے وہ بیک وقت آگے پیچھے دیکھ سکتا تھا۔اس مہینے کا نام جانس یوں رکھا گیاکہ جس طرح دیوتا اپنے دو سروں کی وجہ سے آگے پیچھے دیکھ سکتا ہے، اسی طرح انسان بھی جنوری میں اپنے ماضی و حال کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنوری کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ جنوا (Janua) سے اخذ کیاگیا جس کا مطلب ہے ’’دروازہ‘‘۔ یوں جنوری کا مطلب ہوا ’’سال کا دروازہ‘‘۔ماہ جنوری31؍ دِنوں پر مشتمل ہے۔           ...

The history of December Holidays

  The December holidays in the Indian subcontinent originated during the period of British rule (the British Raj). Origin of Public Holiday: As the ruling power was Christian, Christmas Day (December 25th) was established as a major public and government holiday throughout British India. Early Celebrations: Records from colonial-era cities like Calcutta (Kolkata) show elaborate and extensive Christmas celebrations by the European community beginning as early as the mid-18th century and becoming more widespread and lavish by the 19th century. Banks and government offices would typically close Winter School Vacations The Fortnight Break: The British-style education system introduced a fortnight-long (two-week) break around the Christmas and New Year period. This was a direct import of the academic calendar from the United Kingdom. This practice was well-established by the early to mid-19th century. Climatic Necessity: For many colder, high-altitude regions (especially in the north), ...

تصوف کس طرح حاصل ہو

  تصوف میں انسانی وجود کو ظاہری اور باطنی جہتوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ظاہری پہلو بدنِ خاکی ہے، جبکہ باطنی پہلو روحانی مراکز یا لطائف ہیں، جن کے ذریعے انسان قربِ الٰہی کے مختلف مدارج طے کرتا ہے۔ ان لطائف میں سے ایک نہایت اہم اور نازک لطیفہ "لطیفۂ سری" (Latifa-e-Sirri) ہے، جو سالک کے باطن میں اسرار و مکاشفات کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس کی بیداری اور تربیت براہِ راست مرشدِ کامل کی نگرانی اور روحانی توجہ سے ممکن ہوتی ہے۔ لطائفِ باطن کا پس منظر صوفیاء کرام کے نزدیک انسان کے باطن میں مختلف روحانی مراکز (لطائف) موجود ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت اور قرب کے حصول کا ذریعہ بنایا۔ ان کی مشہور ترتیب درج ذیل ہے: 1. لطیفۂ قلب 2. لطیفۂ روح 3. لطیفۂ سری 4. لطیفۂ خفی 5. لطیفۂ اخفی ان میں لطیفۂ سری ایک درمیانی اور نہایت نازک مقام رکھتا ہے، جو "باطن کا باطن" کہلانے کے لائق ہے۔ لطیفۂ سری کی حقیقت "سِرّ" عربی زبان میں "راز" یا "باطنی پوشیدگی" کے معنی میں آتا ہے۔ اس اعتبار سے لطیفۂ سری وہ مقام ہے جہاں بندے اور خالق کے درمیان روحانی راز منکشف ہوتے...