Skip to main content

RESPECT TEACHERS

Respect teachers for better nation.

کالم #استاد_کو_عزت_دو  کو فیس بک اور وٹس اپ پر ضرور شئیر کریں تاکہ احکام بالا تک ٹیچرز کی آواز پہنچ سکے شکریہ

👈👈 چند دنوں پہلے امریکہ کے ایک بہت بڑے بزنس مین کا انٹرویو پڑھ رہا تھا پورے انٹرویو کی ایک لاٸن نے مجھے بہت متاثر کیا اور اِسی وجہ سے وہ لائن آج تک دماغ کے یاداشت والے خلیے میں محفوظ ہے۔ موصوف کہتے ہیں کہ جو کمپنی اپنے ایمپلاٸی (ورکر) کو مطمئن نہیں کر سکتی وہ اپنے کسٹمر کو کیا مطمئن کرے گی۔؟
بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات ہے لیکن اِس میں بہت بڑی حکمت چھپی ہے اور اکثر ایسا ہم اپنے معاشرے میں دیکھتے بھی ہیں۔ جن میں ٹیچرز سرفہرست ہیں وہ سرکاری یا غیر سرکاری اداروں کی طرف سے دی جانے والی تنخواہوں اور مراعات سے مطمئن نہیں ہیں اور اپنے جاب کے بارے شکوے کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ زرا غور کریں جس معاشرے یا قوم کی تعمیر کرنے والا معمار یعنی استاد ہی مطمعن نہیں بھلا وہ ایک مطمئن نسل یا قوم کیسے پیدا کر سکتا ہے۔؟
دنیا کے خوشحال اور علم و تعلیم سے آشنا ممالک کو اگر دیکھا جاٸے تو وہاں سب سے ریسپیکٹ ایبل اور سب سے زیادہ مطمئن پروفیشنل استاد ہے۔ جرمنی اور جاپان میں سب سے زیادہ مراعات لینے والا پروفیشنل استاد ہی ہے لیکن پاکستان میں استاد کو ایک ماشٹر سے آگے نہیں دیکھا جاتا۔ یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ ہم مولوی اور استاد سے ٹیوشن اور پرائيویٹ اکیڈمیوں میں پڑھانے کا تو گلہ کرتے ہیں لیکن اُن کے معقول معاوضے اور مراعات کی بات نہیں کرتے اس لیے آج بھی کٸی ٹیچرز ہینڈ ٹو ماٶتھ زندگی گزرنے پر مجبور ہیں۔ 
ٹیچرز کے معقول معاوضے اور مراعات کے تناظر میں مجھے ٹیچرز کی بننے والی ایک تنظیم کے بارے علم ہوا جو اپنے سکیل اور مراعات کے حوالے سے مطمئن نہیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے ایک تنظیم کو اسٹیبلش کیا ہے تاکہ اپنے مطالبات احکام بالا تک پہنچائے جا سکیں۔ پنجاب کے 36 اضلاع میں مربوط پنجاب ریسرچ اسکالر یونیٹی( PRSU ) نامی اس تنظیم کے بارے جاننے کے بعد پتہ چلا کہ اُن کا بنیادی مطالبہ صرف یہ ہے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی ٹیچرز جو لوئر سکیل میں جاب کر رہے ہیں ایم فیل ٹیچر کو سکیل 17 اور پی ایچ ڈی کو سکیل 18 میں پروموٹ کیا جائے کیونکہ موجود سکیل ان کے تعلیمی کیلیبر اور کوالیفیکیشن  سے مطابقت نہیں رکھتا اور حقیقتاََ یہ ایک جاٸز مطالبہ ہے جس پر حکومت کو نظر ِ ثانی کرنی چاہیے۔
اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تنظیم کے بانی و چیئرمین ملک ذولقرنین اور ڈپٹی میڈیا ایڈوائزر پنجاب رائے اسرار حیدر نے اپنی ٹیم کے ہمراہ تنظیم کے مطالبات اور مقاصد کے لیے گورنر پنجاب, وزیر تعلیم اور دیگر ایم این ایز اور ایم پی ایز سے بھی بجٹ تجاویز پیش کرنے کے لیے ریکوسٹ بھی کر چکے ہیں جس کا انہوں نے بھرپور ساتھ دینے کی یقین دہائی کرائی ہے اور احکام بالا کو بھی ان کے جائز حقوق دینے چاہیے جو کہ ان کا بنیادی حق ہے۔ اِس تنظیم نے لاہور میں ایک ریسرچ سنٹر بھی قاٸم کیا ہے تاکہ تھیسز لکھنے اور ریسرچ کرنے والے ٹیچرز اور سٹوڈنٹس کو ریسرچ میں مدد کئی جا سکے۔ ریسرچ سنٹر کا قیام ایک بہت ہی احسن اقدام ہے جس کو جتنا سراہا جائے کم ہے کیونکہ ہم ریسرچ میں عالم اقوام سے بہت پیچھے ہیں اور ریسرچ کے فقدان ہی کی وجہ سے ہم علم و ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی نہیں کر پائے جتنی مغربی ممالک نے کی ہے۔ اس لیے آج ہمارا شمار پروڈیوسرز کی بجائے کنزیومرز میں ہوتا ہے۔ جب تک ہمارے تعلیمی ادارے اور گورنمنٹ حقيقی معنوں میں ریسرچ و تحقيق پر فوکس نہیں کرے گی ہم تعلیم و ٹیکنالوجی کی نٸی راہیں نہیں کھوج سکیں گے۔ افسوس کے ساتھ کہہ رہا ہوں ہمارے ہاں لوگ پی ایچ ڈی بھی ریسرچ چوری کر کے کرتے ہیں اور پھر پی ایچ ڈی کر کے ریسرچ کرنے اور علم کی نٸی راہیں کھوجنے کے باوجود وہ کلرک بننے میں فخر محسوس کرتا ہے جیسکہ آج کل کالجز اور یونيورسٹيوں میں پی ایچ ڈی ڈاکٹرز کر رہے ہیں۔
وزارتِ تعلیم اور ساٸنس اینڈ ٹیکنالوجی کو چاہیے کہ ریسرچ جیسے نوبل کاز کے لیے  PRSU کے بناۓ گٸے ریسرچ سنٹر کی مالی و انتظامی معاونت کی جائے تاکہ اِس انقلابی اقدام کو مزید سے مزید بہتر بنایا جا سکے اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے سٹوڈنٹس زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکیں۔
 پی آر ایس یو نامی تنظيم کے قیام کی قابل فخر بات یہ ہے کہ پہلے پہل تو یہ صرف ایک اپنے حقوق کے لیے بننے والی تنظیم تھی لیکن پڑھے اور باشعور لوگوں کی اِس تنظیم نے اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ تنظیم کو اب فلاحی تنظیم میں بھی تبدیل کر دیا اب یہ تنظیم اپنے حقوق کے حصول کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں اور انسانیت کی خدمت میں بھی پیش پیش ہے۔ کرونا وائرس لاک ڈاؤن میں یہ تنظیم بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے اور لیہ ڈی جی خان سے لے کر راولپنڈی تک عوام الناس میں ماسک سینیٹئزر اور مستحق افراد میں راشن تقسیم کر چکی ہے اور مزید فلاحی اقدامات بھی جاری ہیں۔ عوامی آگاہی کے ساتھ ہیلتھ ورکرز کی حوصلہ افزائی کے لیے ہسپتالوں میں جا کر ان کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے اور معاشرے میں عوام الناس کو درپیش مسائل کا ممکنہ تدارک بھی کر رہی ہے۔ جن کے احسن اقدام پر میں اپنی طرف سے اس تنظیم کے رضاکاروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور حکومت پاکستان وزیر تعلیم جناب مراد راس صاحب سے ان کے حقوق کی فراہمی کے لیے اپیل کرتا ہوں کیونکہ استاد قوم کا معمار ہوتا ہے اور غیر مطمئن استاد کبھی بھی مطمئن قوم پیدا نہیں کر سکتا۔۔


Comments

Popular posts from this blog

The History of Calander.

  بارہ مہینوں کے نام کیسے پڑے؟ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کاموقع دینے والی دلچسپ داستان سال کے365 دن 12؍ مہینے رکھتے ہیں۔ ان میں کوئی30، کوئی31 اور کوئی28 یا29 دن کا ہوتا ہے۔  ان مہینوں کے نام کس طرح رکھے گئے، یہ داستان دلچسپ پس منظر رکھتی ہے۔                                  جنوری عیسوی سال کے پہلے مہینے کا نام، رومیوں کے ایک دیوتا جانس (Janus) کے نام پر رکھا گیا۔  جانس دیوتا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی پوجا صرف جنگ کے دنوں میں کی جاتی تھی ,امن میں نہیں۔ دیوتا کے دو سر تھے، جن سے وہ بیک وقت آگے پیچھے دیکھ سکتا تھا۔اس مہینے کا نام جانس یوں رکھا گیاکہ جس طرح دیوتا اپنے دو سروں کی وجہ سے آگے پیچھے دیکھ سکتا ہے، اسی طرح انسان بھی جنوری میں اپنے ماضی و حال کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنوری کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ جنوا (Janua) سے اخذ کیاگیا جس کا مطلب ہے ’’دروازہ‘‘۔ یوں جنوری کا مطلب ہوا ’’سال کا دروازہ‘‘۔ماہ جنوری31؍ دِنوں پر مشتمل ہے۔           ...

The history of December Holidays

  The December holidays in the Indian subcontinent originated during the period of British rule (the British Raj). Origin of Public Holiday: As the ruling power was Christian, Christmas Day (December 25th) was established as a major public and government holiday throughout British India. Early Celebrations: Records from colonial-era cities like Calcutta (Kolkata) show elaborate and extensive Christmas celebrations by the European community beginning as early as the mid-18th century and becoming more widespread and lavish by the 19th century. Banks and government offices would typically close Winter School Vacations The Fortnight Break: The British-style education system introduced a fortnight-long (two-week) break around the Christmas and New Year period. This was a direct import of the academic calendar from the United Kingdom. This practice was well-established by the early to mid-19th century. Climatic Necessity: For many colder, high-altitude regions (especially in the north), ...

سورہ الطارق

 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* 85:21 *بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ*  لفظی ترجمہ:  *بَلْ هُوَ:* بلکہ وہ | *قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ:* قرآن مجید ہے ترجمہ: 85:21 (ان کے جھٹلانے سے قرآن پر کوئی اثر نہیں پڑتا) بلکہ یہ بڑی عظمت والا قرآن ہے۔ Nay, this is a Glorious Qur'an, 85:22 *فِىۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ*  لفظی ترجمہ:  *فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ:* لوح محفوظ میں ترجمہ: 85:22 جو لوح محفوظ میں درج ہے۔ (Inscribed) in a Tablet Preserved!  85. Al- Burooj 21-22 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ* *وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِۙ*  لفظی ترجمہ:  *وَالسَّمَآءِ:* قسم ہے آسمان کی | *وَالطَّارِقِ:* اور رات کو آنے والے کی ترجمہ: 86:01 قسم ہے آسمان کی اور رات کو آنے والے کی۔ By the Sky and the Night-Visitant (therein);- 86:02 *وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الطَّارِقُۙ‏* لفظی ترجمہ: *وَمَآ اَدۡرٰٮكَ:* اور کیا چیز بتائے تجھ کو | *مَا الطَّارِقُ:* وہ رات کو آنے والا کیا ہے ترجمہ: 86:02 اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ رات کو آنے والا کیا ہے ؟ And what will explain to thee what the N...